Pages

Subscribe:

About This Blog

Recent Posts

Featured Video

Blogger templates

Download

BTricks

BThemes

Monday, July 31, 2006

ابہام در ابہام

میں کچھ اور لکھنے کے موڈ میں تھا لیکن ابھی ابھی جب نبیل کے بلاگ پر اپنا ایک سوال کا جوب دیکھا تو حقیقی معنوں میں مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ دوبارہ اپنی گزشتہ پوسٹ کو حرف بہ حرف پڑھا لیکن وہ بات جس کا سارے افسانے ذکر نہ تھا وہ ان کو بہت ناگوار گزری ہے ( صحیح شعر اس وقت یاد نہیں آرہا ) والا معاملہ لگا، پوسٹ کے عنوان سے لے کر آخر تک موضوع صرف اور صرف شعیب ہے نہ کہ انڈیا کے مسلمان۔ نبیل نے کہا آپ کی پوسٹ پڑھ کر مجھے واقعی صدمہ ہوا تھا۔ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد پورے پاکستان کی آبادی سے زیادہ ہے۔ آپ کی منطق کو مان لیا جائے تو کیا وہ سارے چانکیہ کے پیروکار ہیں؟ کیا یہی کچھ آپ گجرات میں جل کر مرنے والوں کے متعلق بھی کہیں گے؟ یہ بات واقعی قابلِ افسوس ہے اگر میں نے یہی کہا ہو، میں نے کہا تھا عام طور پر شعیب کا انداز بڑا سادہ اور شائستہ ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہندوؤں کی صحبت میں اس نے بھی وہی چانکیہ والا فلسفہ سیکھ لیا جس کی ساری بنیاد منافقت پر کھڑی ہے “بغل میں چھری اور منہ میں رام رام “ اس فلسفہ کا جزوِ اول ہے اور وہ ہندوستانیوں والی بات میں نے کہا تھا اپنی گندی ای میل میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ یہ ایک ہندوستانی کے الفاظ ہیں“۔ اس کا کہنا صحیح ہے ہم ہمیشہ ہندوستانیوں ( مستثنیات سے معذرت ) کے الفاظ پر اعتماد کرتے رہے ہیں لیکن چانکیہ کے سانپ خصلت چیلے اپنے لچھے دار لفظوں میں الجھا کر ڈسنا جانتے ہیں اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملاحظہ کیجیے ہندوستانیوں کے ساتھ بریکٹ میں مستثنیات کے الفاظ موجود ہیں۔ وہ تحریر میں نےغصے میں ضرور لکھی تھی لیکن ہوش و ہواس سے بلکل ہی بیگانہ نہیں ہوا تھا۔ اور انڈین مسلمان جو بقول شخصے “ کربلا “ میں رہ کر بھی اسلام پر قائم ہیں میں تو انہیں اپنے سے کہیں زیادہ باعمل مسلمان سمجھتا ہوں۔
اسی کے ساتھ نبیل صاحب نے برادرم اردو دان کی تازہ ایک تحریر کا بھی لنک دیا ہے اس بات پر میں واقعی نبیل کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ورنہ میرے جیسا سطحی سوچ رکھنے والا شخص یہ سمجھ ہی نہ پاتا کہ اس تحریر میں مخاطب کون ہے میں اس لمحے کو بھی مبارک سمجھتا ہوں جس لمحے میں نے نبیل سے یہ سوال کیا تھا کہ میں کون سی باتوں کو سیاق وسباق سے باہر لے گیا تھا۔ ورنہ ایک اچھا شخص اور مسلمان ( اردو دان ) مجھ سے ناراض رہتا اور مجھے خبر تک نہ ہوتی کیونکہ میں تو یہی سمجھ رہا تھا کہ میں نے جو کچھ لکھا وہ شعیب کے لیے لکھا۔
لہٰذا یہ عدالت یعنی ضمیر کی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ایک اچھے انسان اور دوست کا دل دکھانے پر میں اردودان سے معافی مانگنی چاہیے۔اس کے علاوہ بھارت سے تعلق رکھنے والے دیگر اچھے اور اعلیٰ ظرف لوگوں ( مجھے یقین تو نہیں کہ کسی اور نے وہاں میرا بلاگ پڑھا ہو ) سے معافی کا طالب ہوں۔ یہ تو رہا بلاگ کا معاملہ، اب میں اردو دان بھائی سے ان کے بلاگ جا کر معذرت طلب کرتا ہوں۔

8 comments:

iabhopal said...

سُبحان اللہ ۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتيں نازل کرے ۔ مُسلمان کا يہی کام ہے کہ کسی مسلمان بھائی کی دل آزاری نہ کرے اور اگر کسی بھائی کے دل ميں ايسا خيال غلط فہمی سے بھی پيدا ہو جائے تو معافی مانگ لے ۔

شعیب صفدر said...

اچھا قدم ہے! معافی کا !!! یہ آپ کی اعلی ظرفی ہے کہ جس شخص کو آپ نے مخاطب نہیں کیا اس سے یوں معافی مانگ رہے ہیں!!!!

بدتمیزیاں said...

اچھی سوچ ہے میں بھی ان کے بلاگ پر جا کر ان سے کہ چکا ہوں کے ہمارا ارادہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو ایسا ویسا کہنا نہیں تھا۔ یہ تو شیعب جیسے لوگوں کا کاام ہے جو ہمیں لڑانا چاہتے ہیں۔

Nabeel said...

شکریہ عتیق الرحمان صاحب۔ میرا مقصد صرف آپکی توجہ اس جانب دلانا تھا کہ اپنے ویوز کو پبلک کرتے ہوئے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ نیٹ ‌پر کوئی تحریر بھی پوری دنیا میں پڑھی جاتی ہے۔ برادرم اردو دان کے رد عمل سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ایک بھارت میں رہنے والے مسلمان آپ کی تحریر سے کیا تاثر لے رہے ہیں۔ آپ ایک شائستہ مزاج کے اور سلجھے ہوئے آدمی ہیں اور یہ واقعی ناانصافی ہوتی۔ آپ کی اس پوسٹ کا بہت شکریہ

زکریا said...

عتیق: آپ ابھی بھی ہندوؤں کے بارے میں جنرلائز کر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی کوئی مسلمانوں کے بارے میں کرے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے اور ہمیں نہیں کرنی چاہیئے۔

پاکی منڈا said...

بھئی ھندوستان کے مسلمان تو ھمارے دل میں رہتے ھیں انسے ھماری کوئی دشمنی نہیں ھمارا مذھب ایک ھے ھماری منزل ایک ھے اسلئیے انسے ھمارا کوئی جھگڑا نہیں باقی ھندوستان کی گورنمنٹ سے اور انسے جو کے کشمیریوں اور انڈین مسلمانوں کے قاتل ھیں میں ان سے شدید تریں نفرت کرتا ھوں

عتیق الرحمان said...

تمام احباب کا شکریہ ۔ بحیثیت انسان سب قابل احترام ہوتے ہیں اور میں نے بھی لکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا تھا لیکن پھر بھی غلط فہمی ہوئی۔
زکریا مجھے ہندوؤں سے کوئی خاص پرخاش نہیں ہے میرے خیال میں نے جنرلائز نہیں کیا تھا ویسے بھی ہمارا دین تو ہمیں درس دیتا ہے کہ نفرت انسان سے نہیں اس کے کردار سے کی جاتی ہے۔

urdudaaN said...

tamaam hazraat ka main mamnoon hoon keh unhoN ne achchhai aor bhai chaargi ki daawat di.

meri wazaahat:
http://urdudaan.blogspot.com/2006/08/blog-post.html