شعیب کی ای میل پر ردِ عمل
معاملات کافی دور تک چلے گئے ہیں کچھ دوستوں پر پابندی لگا دی گئی، میرے خیال میں اردو ویب والوں کو ایک مرتبہ وارننگ دینی چاہیے تھی۔ لیکن خیر اردو ویب والے بادشاہ ہیں ان کی اپنی سائیٹ ہے جو مرضی کریں۔
میں اس پر تبصرہ کرنے کے لیے اردو بلاگ پر گیا تھا کہ وہاں عزیزم بد تمیز ( سیالکوٹ والے ) کی ایک ای میل پڑھی جس کا ردِ عمل کے طور پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
شیخو کے بلاگ پر شعیب کی طرف سے کی گئیں دو ای میلز رکھی گئیں ہیں جن میں ایک شیخو کے نام ہے اور ایک بد تمیز کے نام ، ان میلز کو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں شعیب کا جو لہجہ ہے ۔۔۔۔ حیرانگی ہوتی ہے نہایت ملائم اور شائستہ انداز میں بات کرنے والے شعیب کا یہ انداز ۔! اب میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں اس ناشائستہ لہجہ پر شعیب کی مذمت کرتا ہوں کیونکہ مذمت بہت نرم الفاظ ہیں میرا جی تو کچھ اور چاہتا ہے، شعیب نے کہا ہے کہ “ ہمارے تعلقات بہت دور تک ہیں ۔۔۔۔۔۔۔“ اتنا گھٹیا پن ؟
شعیب کا تعلق انڈیا سے ہے ایک مسلمان گھر میں پیدا ہونے والے شعیب کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک غیر مذہب ہے اور آزاد خیال ہے ہمیں اس پر اعتراض نہیں اور نہ ہی پابندی کا شکار ہونے والوں نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ معاملہ اس وقت خراب ہوتا خراب ہوتا ہے جب انسان اپنے ذہن کی گندگی دوسروں پر اچھالتا ہے اس سے ماحول خراب ہوتا ہے جو ہر شخص کو الگ الگ انداز سے متاثر کرتا ہے۔ گذشتہ سال شعیب نے اپنے بلاگ پر نبی پا ک صلی اللہ علیہ وسلم کا خا کہ شائع کردیا تھا چونکہ اس کے ساتھ “ ایک خبر “ لکھا ہوا تھا اس لیے ہم میں سے ا کثر نے معاملہ فہمی سے کام لیا اور پھر کچھ لوگوں کے احتجاج پر اس نے یہ خا کہ بلاگ سے ریموو بھی کردیا تھا۔
عام طور پر شعیب کا انداز بڑا سادہ اور شائستہ ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہندوؤں کی صحبت میں اس نے بھی وہی چانکیہ والا فلسفہ سیکھ لیا جس کی ساری بنیاد منافقت پر کھڑی ہے “بغل میں چھری اور منہ میں رام رام “ اس فلسفہ کا جزوِ اول ہے ۔
شعیب نے کہا ہے اپنی گندی ای میل میں دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ “ یہ ایک ہندوستانی کے الفاظ ہیں“۔ اس کا کہنا صحیح ہے ہم ہمیشہ ہندوستانیوں ( مستثنیات سے معذرت ) کے الفاظ پر اعتماد کرتے رہے ہیں لیکن چانکیہ کے سانپ خصلت چیلے اپنے لچھے دار لفظوں میں الجھا کر ڈسنا جانتے ہیں اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غصے میں لکھنا بہت دشوار ہے اس لیے میری تحریر بے ربط ہورہی ، بس اتنا ہی کہنا ہے کہ اگر اس کو پا کستان ہندوستان کا ہی مسئلہ بنانا ہے تو پھر یہی سہی ، ہم لمبے ہاتھوں کو کاٹنا بھی جانتے ہیں اور زبان درازوں کی زبان گدی سے کھینچ لینا بھی ۔ بس ذرا سادہ دل واقع ہوئے ہیں میٹھے بول کہیں کا نہیں رہنے دیتے ۔
ملاحظہ کیجیے شیخو کا بلاگ

6 Comments:
عتیق صاحب میں میں آپ کا بے حد مشکور اور ممنونِ احسان ہوں کہ آپ نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا۔کوئی تو ہے جس نے بات کو جانا۔بحرحال اب کوئی چاہ نہیں ہے کہ اردو ویب والوں سے کوئی ناطہ رکھا جائے۔وہ اپنی جگہ خوش رہیں ہم اپنی جگہ۔
دکھ صرف یہ ہے کہ ہمارے اپنے مسلمان لوگ کیسے ہیں جن کو خدا کی شان میں گستاخی جیسے الفاظ کو بھی اظہار آزادی قرار دیتے ہیں۔
مانتا ہوں اس بات پر ہم میں سے جذباتی پن بھی سامنے آیا یہ ایک فطرتی عمل تھا۔شہزادہ بدتمیز اور پاکی منڈا کا بھی میں ممنون ہوں جنہوں نے ایک سچا مسلمان ہونے کا ثبوت دیا۔پھر بھی اگر کوئی انصاف سے کام لے کر ہم سب کی تمام تحریریں پڑھ کر فیصلہ کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ اسے اردو ویب والوں کی نا انصافی دکھائی نہ دے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی جان بوجھ کر خاموش رہے اور نا انصافی کا ساتھ دیتا رہے۔
بحرحال میں نے تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔اور مجھے انشااللہ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور انصاف ہو گا۔
اسلام علیکم۔ سب سے پہلے تہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس مسلے پر بلاگ کیا۔ میں کھلے الفاظ میں آپ لوگوں سے معزرت کر چکا ہوں جو میںنے آخری تحریر لکھی تھی اس میں میں جزباتیت میں الٹا سیدھا لکھ گیا۔
گالی اس نے شیخو یا بدتمیز مو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو دی تھی۔۔ یہ چیز مجھ سے ہضم نہیں ہوتی میں اپنی زات پر گالی برداشت کار سکتا ہوں اپنے مذہب اور ملک پر نہیں۔۔
آپ کی پوسٹ پڑھ کر میں آپ کو سینہ پھاڑ کر نہیں دکھا سکتا کے مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے۔۔ آپ نے بھی حقیقتا ایک سچہ مسلمان ہونے اور اپنے پاکی منڈے ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن میں پھر کہوں گا یا تو اردو ویب کا بائیکاٹ کیا جائے یا وہاں پر انصاف کرایا جائے۔
دقیہ نوس، انتہا پسندوں کی محفل میں خوش آمدید عتیق صاحب۔ کیوں کہ ہماری طرح اب وہ آپ کو بھی انتہا پسند ہی گردانیں گے
ميں نے مندرجہ ذيل جگہ پر آپ کے تبصرہ کا جواب لکھ ديا ہے ۔
http://iftikharajmal.wordpress.com/2006/07/16/%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d9%90-%d8%b9%d8%a7%d9%85/
عتیق صاحب شکریہ آپ کی اس تحریر کے لیے۔ خوشی ہوئی کے آپ نے اس موضوع پر لکھا۔
لیکن آخر اردو ویب والے چاہتے کیا ہیں؟ صرف اسلام پسندوں کو ہی کیوں رہکا جاتا ہے۔
جہاں تک آپ نے شعیب کی بات کی ہے تو دیکھتے ہیں وہ کیڑا کیا کر پاتا ہے۔ پاکستان ہندوستان کے مسلے پر لکھ کے دکھائے پھر اسے اس کا بھگوان یاد کراتا ہوں۔
شیخو کا راکٹ بہترین جگہ ہے۔ لیکن اس کے خلاف بھی نبیل نے ابھی ابھی بکواسیات کی ہیں۔ صرف حسد اور جلن کے مارے۔ خود ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اردو ویب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شیخو صاحب ! یہی انصاف کا تقاضہ تھا اور اللہ نے توفیق دی کہ میں کچھ لکھ سکا، اس کے لیے شکریہ کی کوئی بات نہیں ۔ اردو بلاگ پرہونے تبصروں میں دیگر لوگوں نے بھی اردو ویب والوں کی اس ناانصافی کی نشاندہی کی ہے ۔
پا کی منڈا ! بھائی جی کیا مطلب ۔۔۔۔؟ آپ اپنے آپ کو ہی پاکی منڈا سمجھ بیٹھے تھے ؟ ( مذاق) اور بھا ئیو ! مجھے انتہا پسند یادقیانوس کے حوالے سے الحمدللہ کوئی احساس کمتری نہیں ہے اس لیے میں ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کرتا، روشن خیالی وہی ہے جس کاماخذ قرآن ہے اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ خود فریبی کے علاوہ کچھ نہیں۔
کس کی جرات کہ وہ ہمیں گالی دے یا ہمارے ملک یا مذہب کے متعلق ہرزہ سرا ئی کرے ۔
حقیقت بتاؤں ، مجھے خود اردو ویب والوں کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس پر تبصرے میں کچھ اس لیے نہیں کہوں گا شاید کوئی یہ کہے کہ میں چپکے چپکے آپ لوگوں سے ان کی برائی کررہا ہوں۔ اس کے متعلق ایک پوسٹ لکھوں گا، انشااللہ۔
بدتمیز، یار ! افتخار اجمل صاحب کو تو آپ نے ایک متبادل نام استعمال کرنے کی تھی ہمیں بھی ہے کہ نہیں ؟ کیونکہ یہ بدتمیز کہتے ہوئے ذرا الجھن سی ہوتی ہے۔
جناب افتخار اجمل صاحب ! دیر سے ہی سہی تبصرہ پہنچا تو۔ یہ ذرا ہمارے ان بھائیوں کا دکھ بھی سنیں اور ان کے بارے میں کچھ کریں۔
اردو را کٹ کومیں مسابقت کے حوالے سے مثبت خیال کرتا ہوں ۔
اچھا لگا آپ کا تبصرہ پڑہ کر اور آپ بھی مجھے متباد نام سے پکار سکتے ہیں اس میں بھلہ کہنسی پوچھنے والی بات ہے۔۔
Post a Comment
Links to this post:
Create a Link
<< Home