Friday, October 27, 2006

عید مبارک

تھوڑی دیر معاف کر دیں تو
عید مبارک۔

Monday, September 25, 2006

چاند کی بات

اب کی بار بھی وہی ہوا جو ہر بار ہوتا ہے یعنی ملک میں تین مختلف دنوں میں چاند دیکھا گیا۔ صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں میں پرسوں روزہ تھا کچھ مزید علاقوں کل اور پورے ملک میں آج پہلا روزہ ہے۔اور امید ہے کہ عید بھی اسی طرح تین دن پڑھی جائے گی۔ میں ہر سال سوچتا ہوں کہ آخر یہ چکر کیا ہے ؟ یہ ہو نہیں سکتا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی جان بوجھ کر ایک دن بعد میں روزہ رکھوائے یا عید کروائے یہی ان لوگوں کے متعلق بھی کہا جاتا ہے جو ایک یا دو دن پہلے چاند دیکھ لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی کو چاند ایک دن پہلے یا بعد میں دیکھنے سے کیا نفع یا نقصان ہو سکتا ہے؟

کبھی کبھی خیال آتا ہے شاید اس کی کوئی سائنسی وجہ ہو !
اس موضوع پر کچھ مقالات بھی پڑھے لیکن ہنوز تشفی نہیں ہوئی، آپ کیا کہتے ہیں ؟

Sunday, September 24, 2006

رمضان مبارک ہو

تمام اہلِ اسلام کو رمضان مبارک ہو۔ اپنی دعاؤں میں مجھے اور تمام مسلمان بھائیوں کو ضرور یاد رکھیے گا۔

Thursday, August 31, 2006

ڈا کٹر خان کے نام

تو بخت کا امین ہے محسن ہے اس زمین کا
وطن کا پاسبان ہے تو سائبان دین کا
دماغ سے اجالتا رہا وطن کی سلوٹیں
جو کاروان زندگی میں نام ہے یقین کا

پہاڑ کی جبیں کو توڑ کر جو خود بکھر گیا
مگر حسن تو کشور مراد کا نکھر گیا

اسی طرح کے لوگ آبرو ہیں کائنات کی
صراط منزل وفا نہ جانے اب کدھر گیا

عبدالقدیر خان نشاط سحر کا جواز ہے
ہمیشہ قوم کی جو مشکلوں میں کار ساز ہے

مقام دے سکے نہ ہم اسیر شعلہ زار کو
صدا ہے وہ بہار کی دلوں کا جو گداز ہے

بڑی ہی دیر سے تھا ملک منتظر بہار کا
تو دیدہ ور کی شکل میں پتہ ملا عطار کا

سدا کی الجھنوں کے خوف میں تھے ہم گھرے ہوئے
کہ سایہ مل گیا ہمیں حسین غمگسار کا

جوملت قدیم کے خلوص کا امین ہے
شکوہ سلطنت کا پاسباں روح مبین ہے

مسخرات میں لیا ہے ذرہ مسکبری
اس لیے سکون سے امن میں یہ زمین ہے

وہ چارہ گر کہ جس نے زندگی کو نور کردیا
مخالفوں کے دل میں خوف ہیبتوں کا بھر دیا

یہ اس کی محنتوں کا پھل ہے کہ آج سر بلند ہیں
کمال جستجو سے ہم کو بامراد گھر دیا

وہ خان محترم ہماری چاہتوں کا نام ہے
کرم کے منہ پر خاک ڈالنا سدا حرام ہے

تمہارے علم و آگہی کے سامنے جھکی ہوئی
عمار پا ک سر زمین کا تجھے سلام ہے

شاعر : - سید عمار جعفری

نواب ا کبر بگتی کا قتل

نواب اکبر بگتی کو قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے سے پہلے امریکہ کے کی مسلح افواج کے میگزین میں رالف پیٹر کا ایک مضمون Blood Brder کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلم ممالک کا “بش پسند “ نقشہ شائع کیا گیا تھا جس میں پا کستان اور ایران کے بلوچستان کو ملا کر ایک الگ ریاست کا درجہ دیا جائے گا۔ اور پا کستان صرف کراچی اور پنجاب پر مشتمل ہوگا۔
ایسے وقت ایک 80 سالہ بوڑھے کو مار کر ہم نے ملک کی کون سی خدمت سر انجام دی اس کا جواب خود “ انجمن ستائش بادشاہ سلامت “ المعروف ق لیگ کے پاس ہے نہ خود بادشاہ سلامت کے پاس۔ پچھلے چار دنوں میں نہ جانے کتنے ہی موقف اختیار کیے گئے ہیں اور یہ سلسہ جاری ہے۔